ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل اسپتال سے جاری کی گئی کوویڈ رپورٹ کو مینگلور ائرپورٹ نے قبول کرنے سے کیا انکار؛ آٹھ مسافر واپس

بھٹکل اسپتال سے جاری کی گئی کوویڈ رپورٹ کو مینگلور ائرپورٹ نے قبول کرنے سے کیا انکار؛ آٹھ مسافر واپس

Mon, 02 Nov 2020 22:28:53    S.O. News Service

بھٹکل 2 نومبر (ایس او نیوز) بھٹکل سرکاری اسپتال سے کوویڈ کی نیگیٹو رپورٹ کو مینگلور ائرپورٹ حکام نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا کہ یہ رپورٹ نقلی ہے۔ اس بات کی شکایت چھ لوگوں نے دفتر ساحل آن لائن پہنچ کر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یکم نومبر صبح ایک بجے مینگلور ائرپورٹ سے دبئی  کے لئے بھٹکل کے  جملہ آٹھ لوگوں کی ٹکٹ کنفرم تھی اور آٹھوں لوگوں نے بھٹکل سرکاری اسپتال میں کوویڈ ٹیسٹ کرایا تھا اور اسپتال کی طرف سے انہیں کوویڈ ۔19 کی نیگیٹیو رپورٹ دی گئی تھی،  مگر مینگلور ائرپورٹ حکام نے ان کی  رپورٹوں کوقبول کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں  نہ صرف ان کی ٹکٹ ضائع ہوگئی بلکہ بھٹکل سے مینگلور جانے اور مینگلور سے واپس بھٹکل آنے کے لئے کار کا کرایہ بھی الگ سے دینا پڑا، اسی طرح بھٹکل سرکاری اسپتال میں فی شخص کوویڈ ٹیسٹ کےلئے 1500 روپئے بھی خرچ کرنے پڑے  جو اب   ضائع ہوگئے۔

ساحل آن لائن دفتر پہنچ کرسید ارشد حُسین،  مشرف لنکا، برہان الدین باشہ،  فضل طاہرہ، اسماعیل نگار اور محمد الیاس نے بتایا کہ ساحل آن لائن پر بھٹکل ہیلتھ آفسر ڈاکٹر سویتا کامتھ  کا  وڈیو بیان دیکھ کر  انہوں نے    مینگلور اسپتال سے کوویڈ ٹیسٹ کرانے کے بجائے بھٹکل سرکاری اسپتال میں ہی کوویڈ ٹیسٹ کرایا تھا، مگر   بھٹکل سے جاری کی گئی کوویڈ ٹیسٹ رپورٹ کو مینگلور ائرپورٹ نے نقلی قرار دیا  اور دبئی کا سفر منسوخ ہونے سے انہیں کافی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔

 ان لوگوں نے بتایا کہ جیسے ہی مینگلور میں ائرپورٹ حکام نے ان کی رپورٹ کو نقلی قرار دیا، انہوں نے وہیں سے ضلع کے ڈپٹی کمشنر کاروار کو فون کرکے واقعے کی جانکاری دی، ڈپٹی کمشنر نے  ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر کا فون نمبر دیتے ہوئے اُن سے رابطہ کرنے کہا۔ ہیلتھ آفسر ڈاکٹر شردکو فون پر رابطہ کرتے ہوئے اُن کو مینگلور ائرپورٹ کا ای  میل اڈرس مسیج کیا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ وہ کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (کریمس)  اسپتال کے ای میل اڈرس سے   ائرپورٹ کے ای میل اڈرس پر رپورٹ روانہ کریں۔ مگر وہ   ایسا کرنے میں ناکام ہوئے۔

ائرپورٹ حکام کا کہنا تھا کہ کوویڈ ٹیسٹ کی رپورٹ جس ویب سائٹ پر آپلوڈ ہونی چاہئے تھی وہاں  ان کا نمبر درج کرنے پر Report under process لکھا ہوا آرہا تھا جس کی وجہ سے ان کی رپورٹ کو قبول نہیں کیا گیا۔ ائرپورٹ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی کوویڈ نیگیٹیو رپورٹ پر تین  لوگوں کی دستخط مع  ربر اسٹامپ ہونا چاہئے تھا، مگر رپورٹ پر صرف ایک ربر اسٹامپ مع دستخط تھے،  رپورٹ کو کس نے تیار کیا تھا  اور کس نے چیک کرکے تصدیق کی تھی اُن کے نام  مع ربر اسٹامپ نہیں تھے۔ ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ ائرپورٹ حکام نے کاروار سے ای میل موصول ہونے کے انتظار میں فلائٹ کو 45 منٹ تک روکے رکھا، مگر ائرپورٹ کے ای میل پتہ پر رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

اس تعلق سے آج پیر کو ائرپورٹ سے واپس آنے والے مسافروں  نے بھٹکل ہیلتھ آفسر ڈاکٹر سویتا کامتھ سمیت  بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بھرت سے  شکایت کی اور کہا کہ انہیں  فی شخص 18 ہزار روپیوں کا نقصان ہوا ہے، ساتھ ساتھ ان کا کافی وقت بھی ضائع ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  دبئی میں یکم نومبر سے ملازمت کے لئے کھڑا ہونا تھا مگر ڈیوٹی جوائین نہیں کرسکے ہیں۔  ان لوگوں نے  بتایا کہ بھٹکل کے آٹھ لوگ جب مینگلور سے واپس آئے تو   اگلے ہی روز یعنی 2 نومبر کو آٹھ لوگوں پر مشتمل  بھٹکل کی ایک فیملی کی ٹکٹ کنفرم تھی،  اور وہ  مینگلور ائرپورٹ کے  لئے نکل رہے تھے،  مگر بھٹکل اسپتال  سے جاری کی گئی  کوویڈ رپورٹ کو مینگلور ائرپورٹ  میں  قبول نہ کرنے کی  اطلاع ملنے پر وہ لوگ  ائرپورٹ  ہی نہیں گئے  جس کی وجہ سے اُن کی بھی ٹکٹ ضائع ہوگئی ہے۔

ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اُترکنڑا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ  دراصل یکم نومبر سے مینگلور ائرپورٹ ادانی گروپ کے ہاتھ میں چلا گیا ہے جس کی وجہ سے تھوڑا مسئلہ ہوا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ واقعے کی جانکاری ملتے ہی انہوں نے دکشن کنڑا ڈپٹی کمشنر سے فون پر بات کی  اور معاملے کے تعلق سے  انہیں آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ آئندہ مینگلور ائرپورٹ میں اس طرح کی شکایت نہیں ہوگی اور کاروار اسپتال سے جاری کردہ کوویڈ رپورٹ کو قبول کیا جائے گا۔ ڈاکٹر ہریش کمار نے یہ بھی بتایا کہ اس تعلق سے ضروری اقدامات اُٹھائے گئے ہیں اور معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بھٹکل کے عوام کو یقین دلایا کہ آئندہ  کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کی کوویڈ رپورٹ  کو    مینگلور ائرپورٹ پر قبول کیا جائے گا اور کسی کو بھی کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

اِدھر بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بھرت نے بھی یقین دلایا ہے کہ اب سسٹم کو درست کیا گیا ہے اور آگے کسی بھی مسافر کو  ائرپورٹ پر شکایت کا موقع نہیں  ملے گا۔


Share: